Science & Technology

Cognitive behavioural therapy (CBT) is a type of talking therapy that's used to treat a wide range of mental health problems, from depression and eating disorders to phobias and obsessive-compulsive disorder (OCD). It recommends looking at ourselves in a different way that might prove useful for all of us in everyday life. But what happens to our brains when we have CBT?

What is cognitive behavioural therapy?

CBT is based on the idea that problems aren't caused by situations themselves, but by how we interpret them in our thoughts. These can then affect our feelings and actions.

For example, if someone you know walks by without saying hello, what's your reaction?

You might think that they ignored you because they don't like you, which might make you feel rejected. So you might be tempted to avoid them the next time you meet. This could breed more bad feeling between you both and more "rejections", until eventually you believe that you must be unlikeable. If this happened with enough people, you could start to withdraw socially.

But how well did you interpret the situation in the first place?

CBT aims to break negative vicious cycles by identifying unhelpful ways of reacting that creep into our thinking.

"Emotional reasoning is a very common error in people's thinking," explains Dr Jennifer Wild, Consultant Clinical Psychologist from Kings College London. "That's when you think something must be true because of how you feel."

CBT tries to replace these negative thinking styles with more useful or realistic ones.

This can be a challenge for people with mental health disorders, as their thinking styles can be well-established.

How do we break negative thinking styles?

Some psychological theories suggest that we learn these negative thinking patterns through a process called negative reinforcement.

For example, if you have a fear of spiders, by avoiding them you learn that your anxiety levels can be reduced. So you're rewarded in the short term with less anxiety but this reinforces the fear.

To unlearn these patterns, people with phobias and anxiety disorders often use a CBT technique called graded exposure. By gradually confronting what frightens them and observing that nothing bad actually happens, it's possible to slowly retrain their brains to not fear it.

How does cognitive behavioural therapy work on the brain?

Primitive survival instincts like fear are processed in a part of the brain called the limbic system. This includes the amygdala, a region that processes emotion, and the hippocampus, a region involved in reliving traumatic memories.

Brain scan studies have shown that overactivity in these two regions returns to normal after a course of CBT in people with phobias.

What's more, studies have found that CBT can also change the prefrontal cortex, the part of the brain responsible for higher-level thinking.

So it seems that CBT might be able to make real, physical changes to both our "emotional brain" (instincts) and our "logical brain" (thoughts).

Intriguingly, similar patterns of brain changes have been seen with CBT and with drug treatments, suggesting that psychotherapies and medications might work on the brain in parallel ways.

How effective is cognitive behavioural therapy?

Of all the talking therapies, CBT has the most clinical evidence to show that it works.

Studies have shown that it is at least as effective as medication for many types of depression and anxiety disorders.

But unlike many drugs, there are few side effects with CBT. After a relatively short course, people have often described long-lasting benefits.

"In the trials we've run with post-traumatic stress disorder [PTSD] and social anxiety disorder, we've seen that even when people stop the therapy, they continue improving because they have new tools in place and they've made behavioural and thinking style changes," Dr Wild explains.

CBT may not be for everyone, however.

Since the focus is on tackling the here and now, people with more complicated roots to their mental problems which could stem from their childhood, for example, may need another type of longer-term therapy to explore this.

CBT also relies on commitment from the individual, including "homework" between therapy sessions. It can also involve confronting fears and anxieties, and this isn't always easy to do.

Ultimately, as with many types of treatment, some people will benefit from CBT more than others and psychologists and neuroscientists are beginning to unravel the reasons behind this.

ایک تحقیق کے مطابق وہ لوگ اپنی صحت خراب کر رہے ہیں جو دفتر کے بعد بھی اپنے سمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس پر کام کرتے رہتے ہیں۔

چارٹرڈ سوسائٹی آف فیزیوتھراپی کے مطابق لوگ ان آلات کے ’غلام‘ بن کر رہ گئے ہیں اور اکثر یہ لوگ سفر کرتے وقت یا گھر پر بھی سمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

سوسائٹی کے بقول یہ آلات استعمال کرتے وقت وہ کس طرح بیٹھے یا لیٹے ہوتے ہیں اس کی وجہ سے ان کو کمر یا گردن کا درد ہو سکتا ہے۔

یونینز کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اب جان لینا چاہیے کہ کس وقت اپنے آلات بند کردیے جانے چاہیے۔

ایک آن لائن سروے کے مطابق 2010 نوکری کرنے والے افراد میں سے دو تہائی افراد کا کہنا تھا کہ وہ دفتری اوقات کے بعد بھی سمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس استعمال کرتے ہیں۔

سوسائٹی کے مطابق دفتری اوقات کے بعد بھی لوگ اوسطاً دو گھنٹے سکرینز کے سامنے گزارتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق لوگ زیادہ وقت سمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس پر اس لیے بھی گزار رہے ہیں کہ ایک تو ان پر کام کا بوجھ بہت ہے اور وہ دفتر میں کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے دفتری اوقات کے بعد کام کرتے ہیں۔

سوسائٹی کی سربراہ ڈاکٹر ہیلینا جانسن کا کہنا ہے کہ یہ تشویشناک بات ہے۔

’اگر تو لوگ کبھی کبھار دفتری کام گھر لے جائیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر یہ عادت بن جائے تو کمر اور گردن کا درد ہو سکتا ہے۔ حہ خاص طور پر اس وقت صحت کے لیے مضر ہے جب لوگ ہاتھ میں لیے جانے والے آلات استعمال کر رہے ہوتے ہیں اور جس طرح بیٹھے ہیں اس کا خیال نہیں کرتے۔


برطانیہ میں گھریلو تشدد کی تعریف کو وسیع کر کے اس میں نفسیاتی طور پر ڈرانے دھمکانے کو بھی شامل کیاگیا ہے۔ اس نئی تعریف کا اطلاق اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں پر بھی لاگو ہوگا۔

اس نئی تعریف کے مطابق اپنے شریک کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگانے یا فون پر رابطہ نہ کرنے دینے پر بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

امید ہے کہ گھریلو تشدد کی تعریف کے دائرہ کو وسیع کرنے سے لوگوں میں اس کے بارے میں بیداری پیدا ہوگی اور یہ بھی معلوم ہوگا کہ کون گھریلو تشدد کا شکار ہے۔

برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد گھریلو تشدد کے زیادہ واقعات سامنے آئیں گے۔

دفترِ خارجہ کا یہ بھی خیال ہے کہ زیادہ تر نوجوان آگے آئیں اور اپنے ساتھ ہونے والے گھریلو تشدد کے بارے میں مدد مانگیں یا پھر کسی کو اس بارے میں بتائیں۔

یہ تبدیلیاں 2013 مارچ سے نافذ ہوں گی جو مقامی حکام، پولیس اور رضاکار تنظیموں کی اپیل پر کی گئی ہیں۔

گھریلو تشدد کی شکار ایک خاتون نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر یہ رہنماء اصول پہلے موجود ہوتے تو شاید انہیں اتنی تکالیف نہ اٹھانی پڑتیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ تشدد کیاگیا تاہم اس سے کہیں زیادہ انہیں نفسیاتی اور جذباتی طور پر پریشان کیا گیا۔

اس خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں اس حد تک کنٹرول کیا گیا کہ ان کا اعتماد پوری طرح ختم ہوگیا جس کے بعد وہ خود پر بھی بھروسہ نہیں کر پا رہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا چونکہ ان کے ساتھ مار پیٹ سے زیادہ انہیں نفسیاتی اور جذباتی طور پر حراساں کیا جاتا رہا اسی لیے وہ خود کو گھریلو تشدد کا شکار تصور نہیں کرتی تھیں۔

خاتون کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اس بارے میں علم ہوتا کہ وہ جذباتی اور نفسیاتی تشدد کا شکار ہیں تو وہ اپنے ارد گرد ہو رہے واقعات کا اندازہ لگا پاتیں اور بہت پہلے ہی مدد حاصل کر لیتیں۔

پولیس چیف کانسٹیبل کامل نیپئیر کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد کی تشریح میں اس تبدیلی سے لوگوں میں اس بارے میں بیداری پیدا ہوگی

امریکی محققین کا کہنا ہے کہ دل کی دھڑکن سے حاصل ہونے والی توانائی کی مدد سے اتنی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جو ’پیس میکر‘ چلانے کے لیے کافی ہو۔

پیس میکر بیٹری سے چلنے والا ایک ایسا آلہ ہے جو دل کی دھڑکن اور نبض کو مستحکم رکھنے کا کام کرتا ہے تاہم فی الحال اس کی بیٹریاں تبدیل کرنے کے لیے متواتر آپریشنز درکار ہوتے ہیں۔

اب مشی گن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسے آلے کی تیاری کی تجویز دی ہے جو دل کی دھڑکن سے چارج ہو کر پیس میکر کو توانائی فراہم کرے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اس آلے پر کلینکل تجربات کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقین ہو سکے کہ یہ مریضوں کے لیے محفوظ ہے۔

اس آلے کے ابتدائی تجربات میں دل کی دھڑکنوں کی مختلف رفتار سے اتنی بجلی پیدا کی گئی جو پیس میکر چلانے کے لیے کافی تھی۔

اب محققین اس آلے کا تجربہ ایک اصل دل پر کرنا چاہتے ہیں اور کامیابی کی صورت میں اسے کاروباری سطح پر تیار کیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر امین کرامی نے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں بتایا ہے کہ پیس میکر کی بیٹری ہر سات سال بعد تبدیل کرنا پڑتی ہے۔ ’بہت سے مریض بچے ہوتے ہیں جو پیس میکر کے ساتھ طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر اس نئی ٹیکنالوجی پر عمل ہو تو وہ بچے کتنے آپریشنز سے بچ سکتے ہیں‘۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے پروفیسر پیٹر ویزبرگ کا کہنا ہے کہ ’نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے اب مریضوں کو پیس میکر کی بیٹری زیادہ نہیں بدلنی پڑتی اور یہ آلہ اسی سمت میں ایک اور قدم بن سکتا ہے‘۔

ان کے مطابق ’اگر محققین ٹیکنالوجی کو بہتر بنا سکیں اور کلینکل تجربات مثبت ہوں تو وہ بیٹری کی تبدیلیوں کی ضرورت کو مزید کم کر دےگا۔

بہت سے والدین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں میں اپنی پسند کی موسیقی کا شوق پیدا کریں لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟

عموماً اس کوشش کا مقدر ناکامی ہی ہوتا ہے یا اس سے بھی برا کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ یہ بچے اپنے والدین کی پسند کی موسیقی سے نفرت ہی کرنے لگتے ہیں اور اس میوزک کو پسند کرتے ہیں جس سے ان کے والدین نفرت کرتے ہیں۔

موسیقی کے معاملے میں کچھ ایسا ہوتا ہے کہ پردادا کو کلاسیقی موسیقی پسند ہے، دادا دادی کو جاز میوزک، والدین کو ’راک میوزک‘ اور نوجوان بچوں کو گنگم سٹائل موسیقی پسند ہوتی ہے۔

والدین سوچتے ہیں وہ چار پانچ بار لمبے سفر پر جا کر بچوں کی موسیقی کی پسند کا اندازہ لگالیں گے۔ وہ ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

لندن میں رائل اکیڈمی آف میوزک میں لیکچرار جیرمی سمرلی کا کہنا ہے ’ہر باپ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا ان کی پسندیدہ فٹ بال ٹیم کو پسند کرے۔ تمام والدین کی یہی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے ان کی پسند کی موسیقی کو پسند کریں۔‘

لیکن وقت بدلتا ہے ’جو موسیقی والدین کے وقت میں فیشن میں ہو وہ ہوسکتا ہے ان کے بچوں کے وقت میں فیشن میں نہ رہے اور نئی طرز کی موسیقی جنم لے لیتی ہے‘۔

موسیقار جولین لویڈ ویبر کا کہنا ہے کہ والدین اپنے بچوں پر اپنی پسند مسلط نہیں کرسکتے ہیں لیکن ’آپ ان کی رہنمائی ضرور کرسکتے ہیں‘۔ جولین نے اپنے بچوں کے ساتھ کچھ ایسا ہی کیا ہے۔

وہ بتاتے ہیں ’آپ اپنے بچوں کو وہ چیزیں سکھانا چاہتے ہیں جو آّپ کو لگتا ہے بہتر ہیں۔ جب میرا بیٹا ڈیوڈ آٹھ برس کا تھا تو میں اسے روسی سیولو بجانے والے موسیقار کے شو میں لے گیا تھا۔ یہ بہت خاص تجربہ تھا تو جو میرے بیٹے کے ساتھ تاعمر رہے گا‘۔


login with social account

Images of Kids

Go to top