Pakistan News

KARACHI: The cyclonic storm “Tauktae” is likely to further intensify into a ‘very severe cyclonic storm’ during the next 18 to 24 hours and move further in the northwest direction, reaching the Indian city of Gujarat by May 18 afternoon or evening, the Meteorological department said in an advisory on Saturday.

However, the department said, the storm didn’t pose a serious threat to Pakistan’s coastal areas.

However, it has forecast dust/thunderstorm-rain with few moderate to heavy falls and gusty winds of 60-80km per hour in Thatta, Sujawal, Badin, Tharparkar, Mirpurkhas, Umerkot and Sanghar districts during May 17- 20.

“The cyclonic storm in southeast Arabian Sea intensified into a severe cyclonic storm that tracked northwestward at a speed of 18km and lay centered at a distance of about 1,310km south-southeast of Karachi. The maximum sustained winds around the system centre are 100-120 km/h gusting to 140Km/h,” it said.

Dust/thunderstorm-rains with isolated moderate/hea­vy falls and gusty winds of 40-60km/h are also likely in Karachi, Hyderabad, Jams­horo and Shaheed Benazir­abad during May 18-20.

“It’s changing its position and does not pose the same threat as it looked like on Saturday morning. It seems that we will likely experience its minimal peripheral effects including thunderstorm-rains and gusty winds,” said Sardar Sarfaraz of the Met department, adding that it was the first cyclonic storm of this year.

About Karachi, he said the city influenced by the system was expected to see very hot weather conditions. “It shouldn’t be called a heat wave. The rise in temperature ranging between 41 and 43 degrees Celsius is likely to occur when the sea breeze will be blocked by the system in the next two days.”

There was no cyclonic storm last year while there were at least seven in 2019, he added.

Recalling the history of cyclones in Arabian Sea, the Met officials said it was last in 2010 when the coastal belt of Balochistan was badly hit by heavy rains caused by the cyclonic storm named Phet.

“Initially the coastal cities skipped any major impact of Phet in 2010,” said Mr Sarfaraz. “It was because the cyclone moved and landed on the Oman coast. However, the reoccurrence of the cyclonic impact led to heavy rains in Balochistan coastal cities and more than 400 millimetres downpour was recorded within less than 24 hours.”

The most destructive cyclone in recent years to hit Pakistan was Cyclone 2A, which slammed into Sindh cities Thatta and Badin in May 1999 as a strong Category 3 equivalent storm, he said.

“It caused massive destruction and loss of lives. After that no cyclonic storm in Arabian Sea has hit any of our coast directly,” said Mr Sarfaraz.

In 2007, he said, the coastal cities of Gwadar, Pasni and Ormara were partially hit after Cyclone Yemyin made its landfall along the Balochistan coast.

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، حکومتی وزرا سمیت اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے فلسطین میں اسرائیلی فورسز کی پرتشدد کارروائیوں اور حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

گزشتہ چند دنوںمیں مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں کم ازکم 300 فلسطینی شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'یوم یروشلم' کے موقع پر اسرائیلی فورسز کے تازہ حملے، مزید درجنوں فلسطینی زخمی

تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں میں بچوں، خواتین اور حماس کے کمانڈر سمیت 20 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ کتنی گھناوئنی بات ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی نسلی امتیاز اور مظالم جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان نمازیوں پر حملوں کے مناظر کو مغربی میڈیا پر معمول کی جھڑپیں قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے فلسطینی نوجوانوں کو مخاطب کرکے کہا کہ میرے بھائی پُر امید رہیں، وہ وقت دور نہیں جب بین الاقوامی سیاست ذاتی مفادات پر نہیں بلکہ اخلاقیات پر مبنی ہوگی۔

 

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے از خود کوئی ٹوئٹ نہیں کیا لیکن انہوں نے حنان اشراوی نامی ایک ٹوئٹر صارف کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا۔

حنان اشراوی نے کہا کہ اقصیٰ میدان جنگ نہیں ہے، یہ ایک عبادت گاہ ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فورسز کا فلسطینیوں پر حملہ، سعودیہ، یو اے ای کا اظہارِ مذمت

انہوں نے کہا کہ یہ عبادت خانہ یا مندر یا گرجا گھر نہیں ہے، یہ ایک مسجد ہے اور اندر موجود فلسطینی پُر امن عبادت گزار ہیں۔

حنان اشراوی نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی قابض ایک مقدس جنگ لڑنے پر تلے ہوئے ہیں

پارٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر مریم اورنگزیب کے حوالے سے کہا گیا کہ پارٹی صدر شہبازشریف کی اسلام آباد میں مصروفیات کا شیڈول جاری کردیا گیا جس کے تحت وہ پاکستان کے عوام کی جانب سے فلسطینی عوام کی حمایت کا پیغام دیں گے۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ شہبازشریف ممتاز حریت رہنما اشرف صحرائی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

 

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ کشمیر ہاؤس میں منعقدہ تعزیتی اجلاس میں سید علی گیلانی کے دست راست اشرف صحرائی کو خراج عقیدت پیش کیاجائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے آزادجموں وکشمیر کے لیے پارلیمنٹری بورڈ کا اجلاس شہبازشریف کی زیرصدارت ہوگا جس میں آزادجموں وکشمیر کے انتخابات کے لیے امیداروں سے متعلق غور ہوگا

یہ بھی پڑھیں: مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں، اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپ میں سیکڑوں افراد زخمی

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔

پارٹی کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین اور بھارت کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل نے مسلمانوں کے اتحاد کو متاثر کیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو فلسطینی عوام کے وکیل تھیں۔

سابق صدر نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں مسلمانوں کے استحصال کے خلاف آواز اٹھائی۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد حکومت پاکستان نے خارجہ امور سے متعلق امور پر توجہ نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنی نااہلی کا الزام پاکستانی سفارتکاروں پر ڈال رہے ہیں۔

علاوہ ازیں آصف علی زرداری نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے قتل عام کا نوٹس لے۔

 

عشروں پر محیط پاکستان سعودی عرب تعلقات کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں ایسا دھچکا لگا کہ اب وزیرِاعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کو دنیا بھر کے میڈیا میں غیر معمولی اہمیت دی گئی اور اس دورے کو تعلقات میں بحالی یا بہتری کی کوشش سے تعبیر کیا گیا۔

تحریک انصاف کی حکومت بھی اس دورے کو ملکی سیاسی مقاصد کے لیے غیر ضروری طور پر اچھال رہی ہے، حالانکہ یہ دورہ کن حالات میں ہوا سب کے علم میں ہے اور اس دورے سے وابستہ امیدیں کس حد تک پوری ہوئیں وہ بھی حکمران جماعت سے ڈھکا چھپا نہیں۔

یہ دورہ ایسے حالات میں ہوا ہے کہ جب تیل پر انحصار کرنے والا سعودی عرب اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے جنوبی ایشیا کی دیگر قوموں کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے اور پاکستان اپنے پرانے دوست کی ناراضگی دُور کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔

وزیرِاعظم عمران خان کے ریاض پہنچنے سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ان کے دورے کے لیے حالات سازگار بنانے میں لگے ہوئے تھے۔ تعلقات میں بگاڑ اس قدر تھا کہ کچھ غیر ملکی صحافیوں نے اسے تعلقات کے نئے آغاز سے بھی تعبیر کیا۔

وزیرِاعظم کے دورہ سعودی عرب کو غیر معمولی دورہ سمجھا گیا

 

اسلام آباد اور ریاض کئی عشروں سے اسٹریٹیجک پارٹنر ہیں اور ریاض نے ہمیشہ بُرے وقت میں توقعات سے بڑھ کر پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔ 1960ء کے عشرے سے پاکستان کو جس قدر مالی مدد ریاض سے ملی اتنی مدد کبھی کسی دوسرے ملک نے نہیں کی۔

پاکستان کو قرض میں دی گئی رقوم بھی امداد میں تبدیل کی جاتی رہیں اور اسلام آباد نے کبھی ریاض سے لیے گئے قرضے واپس نہیں کیے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں سیکیورٹی تعاون سب سے بڑا عنصر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت میں یہ نوبت بھی آئی کہ پاکستان کے زرِمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے دیے گئے 3 ارب ڈالر ریاض نے واپس طلب کیے، جس کی واپسی کے لیے اسلام آباد نے 2 ارب ڈالر چین سے لیے اور پھر تجدید تعلقات کی بات چلی تو ریاض نے ایک ارب ڈالر کی آخری قسط واپس لینے سے گریز کیا۔ اس 3 ارب ڈالر نقد کے ساتھ 3 ارب ڈالر مالیت کے ادھار تیل کا بھی وعدہ تھا لیکن تعلقات میں بگاڑ آنے پر اس معاہدے کی بھی تجدید نہ ہو پائی۔

پاک سعودی تعلقات میں بگاڑ کی ابتدا 6 سال پہلے سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے دور میں ہوئی تھی جب یمن جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی مدد طلب کی تھی لیکن پاکستان نے اپنی جغرافیائی مجبوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس جنگ میں کودنے سے انکار کیا۔ سعودی عرب، جس کے ساتھ تعلقات کی بنیاد ہی سیکیورٹی تعاون پر تھی، وہ اس انکار پر برافروختہ ہوا اور تعلقات کو شدید دھچکا لگا۔

اسی دوران سعودی عرب نے جنوبی ایشیا کی دیگر اقوام کے ساتھ تعلقات بڑھانے شروع کیے جن میں پاکستان کا روایتی حریف بھارت بھی شامل ہے۔ اپریل 2016ء میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے ریاض کے دورے کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے نئے دور کی بنیاد رکھی۔ نئی دہلی اور ریاض کی قربتوں نے اسلام آباد کو پریشان کیا اور پاکستان نے ریاض کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے سیکیورٹی سے ہٹ کر نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر سعودی سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے کے لیے پُرکشش پیشکش تیار کی گئی۔ تعلقات کی بنیاد چونکہ سیکیورٹی تعاون ہی تھا اور بگاڑ بھی اسی وجہ سے آیا تھا، اس بنا پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے آخری چند ماہ میں اہم اقدامات کیے۔ یمن جنگ میں شرکت تو ممکن نہ تھی لیکن پاکستان نے سعودی اتحاد کی میز پر اپنا جھنڈا رکھ دیا اور سعودی افواج کی تربیت کے بہانے دستے بھجوا دیے۔

2016ء میں نریندر مودی کے دورہ بھارت نے سعودی عرب اور بھارت کو قریب کردیا

 

تعلقات کو سیکیورٹی تعاون تک محدود رکھنے کے بجائے متنوع بنانے کی خاطر سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت نے وسیع تعاون کی بنیاد ڈالی۔ سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی اور ثقافتی پیکج پر مذاکرات کیے، اور دونوں ملکوں کے درمیان سماجی اور ثقافتی تبادلوں کو بڑھانے کا معاہدہ کیا. پاکستانی مزدوروں کے لیے سعودی عرب کی ورک فورس میں کوٹہ بھی بڑھایا گیا اور سعودی عرب کے ساتھ آئل ریفائنری لگانے اور ایل این جی پلانٹس کی تنصیب کے معاہدے ہوئے۔

تعلقات میں بہتری اور توسیع کے لیے ماحول مکمل سازگار تھا لیکن پھر پاکستان میں انتخابات کے نتیجے میں حکومت بدل گئی۔ عمران خان وزیرِاعظم بنے اور پہلا غیر ملکی دورہ بھی سعودی عرب کا کیا لیکن بغیر کسی تیاری اور خارجہ امور کی تفہیم سے عاری اس دورے نے پاکستان کی کوئی مدد نہ کی۔

معاشی مشکلات سے پریشان وزیرِاعظم عمران خان نے ترکی، ایران اور ملائیشیا کی جانب دیکھنا شروع کیا اور کوالالمپور سربراہ کانفرنس کو اسلامی کانفرنس کے متبادل پلیٹ فارم کے طور پر پراجیکٹ کیا گیا۔ دسمبر 2019ء میں ہونے والی یہ 5 ملکی سربراہ کانفرنس پاک سعودی تعلقات میں نیا موڑ لائی۔ پاکستان کو سعودی دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹنا پڑا اور سعودی عرب سے تعلقات پھر کشیدہ ہوگئے۔

ایک بار پھر سعودی عرب کو پاکستان کی ضرورت آن پڑی کیونکہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد امریکا اور یورپی ممالک سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ناراض تھے اور انہوں نے ڈیووس کی طرز پر بلائی گئی سرمایہ کاری کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ محمد بن سلمان نے ان حالات میں پرانے اتحادی پاکستان کی طرف دیکھا اور یہی موقع تھا جس کی اسلام آباد کو تلاش تھی۔

ریاض نے اسلام آباد کو 6 ارب 20 کروڑ ڈالر کا پیکج دے دیا۔ اس مالی مدد سے پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکلنے میں مدد ملی، فروری 2019ء میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اسلام آباد پہنچے اور اس دورے کے دوران شاہد خاقان عباسی حکومت کے ساتھ طے پانے والے اقتصادی اور ثقافتی پیکج پر دستخط کیے۔

 

 

سعودی ولی عہد کے دورہ اسلام آباد میں ان کا یہ بیان میڈیا کی زینت بنا کہ وہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر ہیں. اس بیان کو ولی عہد اور کپتان کے درمیان بہترین کیمسٹری کا عکاس بتایا گیا۔ اگست 2020ء میں ایک بار پھر تعلقات دباؤ کا شکار ہوئے اور اس بار دباؤ کی وجہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ کا جذباتی بیان بنا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ او آئی سی بیچ بچاؤ اور آنکھ مچولی کی پالیسی نہ کھیلے، کشمیر پر اسلامی کانفرنس کے وزرا خارجہ کا اجلاس بلایا جائے اور اگر یہ اجلاس نہیں بلایا جاتا تو وزیرِاعظم پاکستان سے کہوں گا کہ پاکستان ایسے ممالک کا اجلاس خود بلائے جو کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ ہیں۔

وزیر خارجہ نے یہیں بس نہ کی اور سعودی عرب کو بھی لپیٹ میں لیا اور کہا کہ میں آج اسی دوست کو کہہ رہا ہوں جس کی سالمیت اور خود مختاری کی خاطر ہر پاکستانی لڑ مرنے کے لیے تیار ہے، لیکن ساتھ وہ آپ سے یہ تقاضا بھی کررہے ہیں کہ آپ بھی وہ قائدانہ صلاحیت اور کردار ادا کریں جس کی امت مسلمہ کو آپ سے توقع ہے۔

یہی وہ موقع تھا جب ریاض نے شدید غصے کے عالم میں پاکستان کو دیے گئے 3 ارب ڈالر واپس مانگ لیے اور ادھار تیل کا معاہدہ جو مئی 2020ء میں ختم ہوچکا تھا اس کی تجدید نہ کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو دی گئی مالی مدد واپس طلب کی۔

 

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان کے بعد بگڑنے والے تعلقات میں بہتری کی امید اس حالیہ دورے سے پیدا ہوئی ہے۔ اس دورے کو تحریک انصاف اس طرح پیش کر رہی ہے جیسے کوئی بہت بڑی سفارتی کامیابی مل گئی ہو، لیکن کامیابی کا جائزہ لینے کے لیے اس دورے کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کو غور سے پڑھنا ہوگا اور سعودی سفارتی حلقوں کی رائے کو بھی پرکھنا ہوگا۔

سب سے پہلے ہم اسلام آباد میں طویل عرصہ سفارتی ذمہ داریاں نبھانے والے ڈاکٹر علی عواض العسیری کے عرب نیوز میں شائع کالم کا جائزہ لیتے ہیں۔ عواض العسیری نے وزیرِاعظم کے 2 دوروں اور سعودی ولی عہد کے دورہ اسلام آباد کا ذکر کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان کیمسٹری کا تذکرہ بھی آیا اور پھر سابق سفیر نے جتلایا کہ ’سعودی عرب مسلم دنیا کے لیے اسلام کا دل ہے اور کوئی دوسرا ملک اس ٹائٹل پر حق نہیں جتا سکتا۔ او آئی سی 57 اسلامی ملکوں کی واحد نمائندہ تنظیم ہے اور اس کے متبادل بلاک بنانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ یہ بیانیہ بالکل غلط ہے کہ او آئی سی نے مسئلہ کشمیر پر کچھ نہیں کیا‘۔

سفیر اگر عہدہ سفارت سے ریٹائر یا الگ بھی ہوجائے تو 2 برادر ملکوں کے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے محتاط اور سفارتی لہجہ ہی اپناتا ہے۔ ڈاکٹر عواض العسیری نے کچھ بھی نہ کہا اور سب کہہ بھی گئے۔ انہوں نے جتلا دیا کہ آپ ہمارے مقابلے میں کوئی نیا بلاک بنانے کی سوچ بھی نہ رکھیں۔ ڈاکٹر عواض العسیری نے شاہ محمود قریشی کے جذباتی بیانات کا بھی جواب دے دیا۔

ڈاکٹر عواض العسیری نے تعلقات بحالی کے عمل کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ’خوش قسمتی سے دونوں ملکوں کے پاس رابطے کے روایتی اور غیر روایتی چینلز موجود ہیں جو کسی بھی طرح کی غلط فہمی یا جان بوجھ کر تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش پر قابو پانے میں مدد دے سکتے ہیں‘۔

سعودی سفیر پاکستان کے لیے ماضی میں دی گئی مالی مدد کا بھی ذکر کرنا نہ بھولے اور کہا کہ سعودی عرب اور عرب امارات نے 2 ارب ڈالر کے قرضے اگلے سال تک لیے بڑھا دیے ہیں۔

سعودی سفیر کا کالم بتاتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی تجدید تو ہوگئی ہے لیکن سعودی عرب یا اس کی مسلم دنیا میں قیادت کو دوبارہ چیلنج یا نظر انداز کرنے کی کوئی بھی کوشش اس تجدید کو ختم کرسکتی ہے۔

دورے کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر آسان قرضہ دینے کا وعدہ کیا اور عرب امارات اور سعودی عرب کا پہلے سے موجود 2 ارب ڈالر بھی واپس نہ لینے کی یقین دہانی کروا دی گئی۔ سعودی عرب کی طرف سے ملنے والی رقم بجٹ تیاری میں تو شاید کوئی بڑی مدد نہ دے سکے تاہم موجودہ حالات میں یہ بھی بڑا ریلیف ہے کہ 2 ارب ڈالر واپس نہیں لیے جا رہے۔

اب ہم مشترکہ اعلامیے کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس میں پہلا اعلان سعودی پاکستان سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے قیام کا ہے۔ بظاہر یہ بڑا اعلان نہیں ہے لیکن اگر اس کونسل کا میکنزم بنا لیا جائے اور اسے فعال کیا جائے تو دونوں ملکوں کے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی تعاون میں اضافہ ممکن ہوگا۔ اس کونسل کا قیام اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ کونسل اعلیٰ ترین سطح پر رابطوں کی کونسل ہوگی اور بادشاہتیں اسی طرح کام کرتی ہیں۔ اگر سعودی اعلیٰ قیادت کے ساتھ رابطے اس فورم کے ذریعے مضبوط بنائے جاسکیں تو یہ واقعتاً اہم فورم ہوگا۔

اس اعلامیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سیکیورٹی سے ہٹ کر دیگر شعبوں تک پھیلانے کی بھی بات کی گئی جن میں توانائی، سائنس، ٹیکنالوجی، زراعت اور ثقافت شامل ہیں۔ اس حوالے سے کسی ٹھوس اور بڑے معاہدے کا ذکر نہیں ہوا۔ دونوں ملکوں کو تعلقات کی نوعیت جیو اسٹریٹجک سے جیو اکنامک میں بدلنے کی ضرورت ہے، اس صورت میں ہی مستقبل میں دونوں کی عشروں پرانی دوستی مزید گہری اور معتبر ہوسکتی ہے۔

مشترکہ اعلامیہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔ یہ مسلم دنیا کا پرانا اور اصولی مؤقف ہے جس کا اعادہ کیا گیا ہے۔

شام اور لیبیا میں سیاسی حل کی حمایت کی گئی ہے۔ یہ دونوں معاملات سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے علاوہ ترکی کے لیے بھی اہم ہیں اور پاکستان کو یہاں توازن کی ضرورت پڑے گی۔

یمن کے مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد اور گلف انیشیٹو کی تائید کی گئی ہے۔ یمن مسئلے سے سعودی عرب خود جان چھڑانا چاہتا ہے جس کے لیے سعودی عرب اور ایران کے درمیان عراق کی میزبانی میں مذاکرات جاری ہیں جس کی تصدیق اب خود سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی کردی ہے۔ اس مسئلے پر ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے پہلے ہم نے ایران کے ساتھ ثالثی کا جو شوشہ چھوڑا تھا اس کی وجہ سے بھی سعودی عرب ناراض ہوا تھا۔ سعودی حکمران ثالثی سے چڑ کھاتے ہیں اور ہمارے حکمرانوں کو اس کی نزاکت کا اندازہ ہی نہیں تھا۔

مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم حصہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ولی عہد نے دونوں ملکوں (پاکستان اور بھارت) کی فوجوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کے سمجھوتے، جو 2003ء کے سمجھوتے پر مبنی ہے، کو سراہا، دونوں طرف سے پاک بھارت مذاکرات پر زور دیا گیا تاکہ دونوں کے درمیان تنازعات بشمول جموں و کشمیر کو پُرامن طور پر حل کیا جاسکے۔

اعلامیہ کا یہ حصہ سب سے اہم اس لیے ہے کہ دونوں ملکوں کی طرف سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل کا پرانا مؤقف ترک کردیا گیا ہے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ دونوں ملک باہمی مذاکرات سے مسائل حل کریں۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا ذکر ہوا نہ ہی کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا کوئی ذکر کیا گیا۔

 

مشترکہ اعلامیے میں اہم اعلان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہے جس پر بات چیت سعودی ولی عہد کے دورہ اسلام آباد کے دوران ہوئی تھی لیکن پیشرفت نہ ہو پائی تھی۔

سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران 20 ارب ڈالر کے جن منصوبوں کا ذکر تھا، اس دورے کے اعلامیے میں ان کا کوئی ذکر موجود نہیں، بس ایک مبہم سی سطر میں کہا گیا کہ پاکستان میں توانائی، ہائیڈرو پاور جنریشن، انفرااسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اینڈ کیمونیکیشن اور واٹر ریسورس منیجمنٹ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے فریم ورک ایم او یو پر دستخط ہوئے۔ ایم او یوز کے بعد سرمایہ کاری تک کا ایک طویل عمل ہے جس کے لیے بڑی سفارتی تگ و دو کی ضرورت ہے۔ یعنی درحقیقت ابھی ہاتھ میں کچھ نہیں، اگر ان ایم او یوز کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے پر کوئی کام ہوا تو چند سال بعد یہ منصوبے شروع کرنے کے قابل ہوں گے۔

اس مشترکہ اعلامیے میں پاکستان نے سعودی عرب کے قائدانہ کردار کو بھی تسلیم کر لیا ہے، یوں پاکستان کے لیڈران اور ان کے ترجمان دانشوروں کی طرف سے نئے اسلامی بلاک کی کہانیاں دم توڑ گئیں۔

اس اعلامیے میں کشمیر پر جو کچھ کہا گیا اس سے پاکستان کشمیر پر 7 دہائیوں پرانا مؤقف بھی چھوڑ کر آگیا۔ سعودی عرب کے جتنے تنازعات تھے سب میں اس کے مؤقف کی حمایت کرکے خود کو نئے تنازعات میں پھنسانے کی بھی بنیاد رکھ لی گئی ہے اور جس سرمایہ کاری کی امید کی جا رہی ہے وہ ابھی تک کاغذوں میں ہے۔

Photo courtesy Shehroze Kashif Facebook

Shehroze Kashif, 19, became the youngest Pakistani mountaineer to reach the summit of Mount Everest — 8,848.86 metres — on Tuesday.

In an update on Facebook, Nepalese mountaineer and the expedition manager of Seven Summit Treks, Chhang Dawa Sherpa, congratulated Kashif for becoming the youngest Pakistani to climb Mount Everest. “This morning Kashif successfully climbed the Mt. Everest as a part of Seven Summit Treks — Everest Expedition 2021,” he wrote.

An update on Kashif’s Facebook page said, “ALHAMDULILLAH ALHAMDULILLAH. Received the text confirmation from Shehroze Kashif. History has been made !!!!!!!!! Ma Sha Allah Shehroze has summited Everest.”

Hailing from Lahore, Kashif is also the youngest Pakistani to have climbed Broad Peak (8,047m) at the age of 17. He used supplemental oxygen on his climbs to Broad Peak and Everest.

His expedition to Broad Peak earned him the title “The Broad Boy”.

Earlier, Samina Baig, the first Pakistani woman on Everest, was also the youngest Pakistani, at the age of 23, to reach the summit of the tallest 8,000er in the world.

Kashif’s interest in trekking developed at a young age as he accompanied his father on outdoor trips.

In a TV interview, the young climber said that long before he reached his first summit, he was fascinated by the idea of what was at the top. “Whatever I had imagined was not there at the top. However, when I reached the top, I felt pride that I have achieved something,” he said.

Kashif spent well over a month acclimatising at the Everest base camp in Nepal while keeping his fans updated via social media.

In another TV interview in February, he spoke in detail about climbing, fitness, and the finances required for achieving big goals.

“There is no comparison between the training levels of a cricketer and a mountaineer. Sometimes, we have to climb for 26-hours in one go,” he said.

“The strongest thing in the world is the human mind, you cannot beat it. If your brain stops working at a higher altitude, that’s a big thing. You have to train yourself for those conditions,” Kashif went on to say while sharing his fitness routine and its importance in decision-making at heights. “Mountaineering doesn’t ask for compromise, mountaineering asks for sacrifice.”

Kashif went on to add that the Everest expedition cost him Rs10 million, with no sponsorship from the government or the private sector.

In the same interview, Kashif said that he wants to form a team with Sajid Sadpara — the youngest person in the world to summit K2 at the age of 20 — and climb all the 14 8,000m peaks. However, he quickly pointed out that this would require patronage and sponsorship for the young mountaineers. If the government can give 10m to each cricketer, it can do anything, he told the shocked anchor.

The Lahori teen’s first climb was at the age of 11 when he trekked to the 3,885m Makra Peak, followed by Musa Ka Musalla, a 4,080m peak.

Continuing to train for longer and harder treks, he did the Gondogor La K2 Base Camp trek at the age of 14 and at 15 was able to complete the Khurdo Pin Pass (5,800m) trek. At 18, he did Khusar Gang, a 6,050m peak Alpine style.

Confirming Kashif's summit, Alpine Club of Pakistan secretary Karrar Haidari congratulated the young climber on this feat.

Talking to Dawn.com, Shehroze’s father called him a “special one”.

“He has been doing all these treks and climbs on his own. In fact, when he got to the Everest base camp, we found out how things could go wrong during the expedition,” said Kashif Abbas.

He shared that neither he nor his other three sons had any interest in trekking or mountaineering.

“On his first trek, I had asked the guide to take him to the top and from then onwards Shehroze went to all trips on his own.

“So far I have supported Shahroze and the response to his success is overwhelming. Probably after Mohammad Ali Sadpara, he is the most famous Pakistani climber,” the beaming father said.

Difference between ‘Alpine’ and ‘Expedition’ style

Nepal, China and Pakistan are home to the 14 highest peaks in the world, also known as the 8,000ers. While the world’s tallest mountain Everest (8,848m) is located in Nepal, Pakistan is home to five 8,000m peaks including K2, Gasherbrum 1 and 2, Broad Peak and Nanga Parbat.

Climbers enter the ‘death zone’ (above 8,000m the pressure of oxygen is insufficient to sustain human life for an extended time span) to reach the summit of these 8,000ers, with most relying on bottled oxygen — much to the annoyance of those against commercial expeditions on the high mountains.

In mountaineering, the Alpine approach means no supplementary oxygen, packing light, zero reliance on fixed ropes and high-altitude porters/Sherpas and moving fast. This makes a climb over 6,000m riskier as the altitude increases.

Opposed to Alpine, Expedition style (or “siege” style) relies on fixed ropes set along the climbing routes by Sherpas/HAPs and the use of bottled oxygen.

Pakistani mountaineer Nazir Sabir was the first Pakistani to climb Everest on May 17, 2000. Years later, Hasan Sadpara, Samina Baig, Abdul Jabbar Bhatti and Mirza Ali reached the top of the tallest 8,000m peak. So far, all Pakistani summits have been done with the use of supplemental oxygen.

ISLAMABAD (AP) – Pakistan on Thursday recalled its ambassador to Saudi Arabia following complaints by expat Pakistani laborers working in the kingdom who said their embassy had mistreated them. Ambassador Raja Ali Ejaz was ordered home pending an investigation into his work and that of six other employees of the Pakistani Embassy in Riyadh. Complaints against them had come from multiple expat laborers over recent months, said Syed Zulfikar Bukhari, an adviser to Prime Minister Imran Khan.

 Bukhari did not detail the nature of the complaints except to say that the workers alleged the embassy staffers had mistreated them. Pakistan’s foreign ministry said it “attaches high importance to the welfare of Pakistani nationals overseas” who represent one of the country’s “greatest assets.” “There is zero tolerance for lapses in public service,” the ministry said.

Hours earlier, Khan told a gathering on government plans to introduce new incentives for expat laborers whose remittances are a huge boost to Pakistan’s economy that he had ordered action against Ejaz. Khan did not elaborate and only said that in some cases, embassy staff had tried to extort money from laborers.
Pakistan and Saudi Arabia have long enjoyed close and friendly relations. The kingdom is also the main supplier of oil to Pakistan.

Interior Minister Sheikh Rashid and Minister for Religious Affairs Noorul Haq Qadri address a press conference on Thursday. — DawnNewsTV

The federal government on Thursday formally banned the Tehreek-i-Labbaik Pakistan (TLP), whose supporters staged three days of violent protests across the country this week after the arrest of their leader.

A notification declaring TLP as a proscribed organisation was issued by the Ministry of Interior shortly after the federal cabinet approved a summary to ban the party.

The notification said the federal government "has reasonable grounds to believe that Tehreek Labbaik Pakistan is engaged in terrorism, acted in a manner prejudicial to the peace and security of the country, involved in creating anarchy in the country by intimidating the public, caused grievous bodily harm, hurt and death to the personnel of Law Enforcement Agencies and innocent by-standers, attacked civilians and officials, created wide-scale hurdles, threatened, abused and promoted hatred, vandalised and ransacked public and government properties including vehicles and caused arson, blocked essential health supplies to hospitals, and has used, threatened, coerced, intimidated, and overawed the government [and] the public and created sense of fear and insecurity in the society and the public at large".

"Therefore, in exercise of the powers conferred by Section 11B(1) of the Anti-Terrorism Act, 1997, the Federal Government is pleased to list Tehreek Labbaik Pakistan in the First Schedule to the said Act as a proscribed organisation for the purposes of the said Act," it added.

Notification for TLP's proscription.
Notification for TLP's proscription.

 

Addressing a press conference in Islamabad earlier, Interior Minister Sheikh Rashid announced that the government would also take measures for TLP's dissolution, saying a separate summary will be moved in the cabinet in this regard tomorrow. He said after the summary's approval in the next two to three days, a reference will be filed in the Supreme Court for the party's dissolution.

Analyse: Why could PTI not manage TLP challenge?

The minister said the government had "tried its best" to resolve matters through negotiations but TLP's "intentions were very horrifying. They did not want to step back from their agenda for April 20 at any cost."

He lauded the services of police and other law-enforcement personnel to restore peace, saying as many as 580 police personnel had sustained injuries and at least 30 cars had been destroyed during the violence.

The government had announced it would move to ban the TLP, whose leader had called for the expulsion of the French ambassador, on Wednesday. Saad Rizvi was detained hours after making his demands, bringing thousands of his supporters to the streets in cities across Pakistan.

Two police officers died in the clashes, which saw water cannon, tear gas and rubber bullets used to hold back crowds.

Speaking alongside Rashid, Minister for Religious Affairs Noorul Haq Qadri said he had been engaging with the TLP for the past two years and it was the government's effort to bring it into the system as a "mainstream political party".

He said the government had never backtracked from its commitment to present a resolution in the National Assembly, adding that it was proposing a draft whose diplomatic repercussions would be minimum and which would not push the country into an international crisis.

While negotiations were underway in this regard, Qadri said, the government found out through informed sources that the TLP was also making "full preparations" to stage a sit-in at Faizabad in Islamabad on April 20.

He said the party had issued a call to its workers to gather at its former chief Allama Khadim Hussain Rizvi's grave and then stage a long march towards Faizabad. "They did not need or have the moral standing to issue such a [call] without the negotiations having concluded," the minister added.

He said the government had even offered to form a parliamentary committee that along with the TLP could produce a draft with consensus, but that the TLP leadership did not agree to this either and were insistent that only their demands be met.

"It is not the job of governments and states to plead and request but as an elected democratic government, we made full efforts through negotiations and requests to somehow make them understand and convince them."

Referring to Rizvi's arrest, the minister said political leaders, religious leaders and business personalities were regularly arrested but "the kind of reaction shown [by TLP] cannot in any way be called moral or religious."

"We understand that the protection of Namoos-i-Risalat is the responsibility of Pakistan being the most important member of the Islamic world and it will do the same on every forum of the world."

Answering a question, Rashid suggested the expulsion of the French ambassador could not be done because it would have "complicated" matters with the European Union.

He said action would be taken against the people who had been booked for violence and that there would be "no concessions".

Asked by a reporter about the possibility that the TLP could re-surface under a different name after the ban, Rashid said it was a valid concern. "We are trying to find a solution for this as well," he added, suggesting that the government would aim to target individuals as well.

In response to another question, Rashid said: "All French citizens are safe here. There is no threat."

He said a resolution will no longer be introduced in the National Assembly which the TLP had demanded.

Govt moves to ban TLP after reign of terror

During the past three days, half a dozen people including police officials have been killed and scores of people injured after protests broke out in different cities against Rizvi's detention.

Interior Minister Rashid had announced the decision to ban the TLP on Punjab government’s recommendation under the anti-terrorism law.

A senior police official had quoted sources in the government as saying that authorities had started backdoor talks with the TLP to reach a ‘settlement’ but said it would have a ‘devastating and demoralising effect’ on the police force that had sustained injuries and even deaths just to ensure the writ of law.

Most of the highways, motorways and thoroughfares blocked for the past few days were cleared by law-enforcement agencies in a joint operation by Wednesday evening, while police high-ups said a final operation would be launched during the night to clear all remaining roads as well.

Talking to media in Sargodha on Wednesday, Prime Minister Imran Khan said it was the responsibility of the state to ensure protection of public against riots and also establish the writ of the state. Therefore, he added, the government had decided to ban the TLP in the larger interest of the public and state.


With additional reporting by Shakeel Qarar.

Foreign Minister Shah Mahmood Qureshi said that the government is inviting the world's attention towards economic opportunities in Pakistan through economic diplomacy. — Photo courtesy: Radio Pakistan

Foreign Minister Shah Mahmood Qureshi has said that the government is inviting the world's attention towards investment opportunities in Pakistan through economic diplomacy, Radio Pakistan reported.

He expressed the views late on Sunday at a dinner hosted in his honour at the Pakistan House in Berlin. The foreign minister is currently on a two-day official visit to Germany.

"Pakistan has transformed its geographical political priorities into geographical economic priorities," he said.

Qureshi said Pakistan is an emerging market of 220 million people where plenty of investment opportunities exist.

Earlier, the foreign minister met with Speaker of Christian Democratic Union of Germany Nils Schmid. In a tweet, Qureshi said the two discussed the European Union, the China-Pakistan Economic Corridor and investment opportunities in special economic zones.

They also discussed developments in South Asia and the key role being played by Pakistan in Afghanistan.

Qureshi also met Siemens CEO Joe Kaeser and discussed areas of potential investment in Pakistan as well as transfer of technology, specifically in the power sector. "Welcomed Joe to visit Pakistan to take these opportunities further," he said.

The foreign minister also met Dr Gunter Mulack, the director of the German Orient Institute and former ambassador to Pakistan.

"Discussed the enhancement and promotion of the relationship between Pakistan and Germany and what we could do together for greater academic and economic diplomacy," he said. 

FM arrives in Berlin

Qureshi on Sunday arrived in Berlin along with members of his delegation on a two-day official visit.

Upon arrival at the airport, the foreign minister was received by Pakistan’s Ambassador to Germany Dr Muhammad Faisal, senior officials of the German Foreign Office, and senior members of Pakistan embassy, a press release said.

Talking to media after his arrival, the foreign minister said more than 100,000 Pakistanis had been living in Germany and playing a positive role for both countries. Qureshi said Pakistan wanted to expand economic ties with Germany.

According to the Foreign Office spokesperson, Qureshi was undertaking an official visit to the country on the invitation of German Foreign Minister Heiko Maas.

This year, Pakistan and Germany are celebrating the 70th anniversary of the establishment of diplomatic relations. Both countries plan to undertake a number of activities in this context.

Pakistan and Germany have been collaborating closely on regional matters and at the multilateral fora. Germany is Pakistan’s largest trading partner in the EU.

The foreign minister’s visit to Germany is part of regular high-level exchanges between the two countries. German Foreign Minister Heiko Maas visited Pakistan in March 2019.

 

6.png

login with social account

Images of Kids

Go to top