اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت نے استقبال رمضان کے سلسلے میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا۔ جس میں پاکستانی کمیونٹی نے بھرپور میں شرکت کی۔ جلسے کی صدارت اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کے صدر جناب جاوید اقبال صاحب نے کی۔
اسلامک ايجوکيشن کميٹی کويت کے جنرل سیکٹری نثار احمد صاحب نے پروگرام کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ تلاوت قرآن کریم سے پروگرام کا باقاعدہ آغاز حافظ وجیہ الحسن کی خوبصورت آواز سے ہوا۔ قاری نثار احمد صاحب نے خوبصورت آواز ميں ہدیہ نعت پيش کیا جسے شرکائے محفل نے بےحد پسند کیا-

پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا حافظ حفیظ الرحمن صاحب نے اپنے خطاب میں روزہ کا مقصد اور روزہ کی تربیت سے گزرنے والا انسان معاشرے کے لیے کتنا مفید ہوتا ہے، اس حوالے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ روزہ انسان کے اندر وہ خوبی بیدار کرتا ہے جس سے معاشرے میں اخوت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوتی ہے۔ روزہ انسان کو ظلم اور زیادتی سے روکتا ہے۔ روزہ انسان کے اندر خوفِ خدا پیدا کرتا ہے۔ روزہ انسانیت کی خدمت کے جذبے کو ابھارتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ روزے کی اصل روح کو سمجھ کر روزہ رکھا جائے تاکہ اس کی فیوض و برکات سے انسان اور معاشرہ بہرہ مند ہو سکے۔

پروگرام میں الخدمت فاونڈیشن پاکستان کے صدر جناب میاں عبدالشکور صاحب نے بھی بذریعہ زوم حاضرین سے خطاب کیا-
انہوں نے اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کی ٹیم کو پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد دی اورالخدمت فاونڈیشن کے کام کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ الخدمت فاونڈیشن پہلے کی طرح ضرورتمندوں اور محتاج لوگوں کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہے گی۔
سفارت خانہ پاکستان سے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی جناب فرخ امیر سیال صاحب نے بھی جلسے سے خطاب کیا۔
انہوں نےاسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کے کام اور اس بھرپور پروگرام پر خوشی کا اظہار کیا انہوں نے اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کی سماجی خدمات کی بھی تعریف کی۔ ‏اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کی انتظامیہ کی طرف سے کووڈ کے بعد اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو اکٹھا کرنے پر IEC کی قیادت کو مبارک باد دی اور کہا کہ الله کی رضا کے حصول کے لیے ضرورتمند لوگوں کی خدمت اصل عبادت ہے اور IEC اس کام میں بھر پور حصہ لے رہی ہے۔
اختتامی کلمات میں اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کے صدر جناب جاوید اقبال صاحب نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا IEC کے تمام شعبوں کو بہترین انتظامات اور عوام سے رابطہ رکھنے پر مبارک باد دی۔
انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ ہم رمضان کی برکتوں سے کس طرح فیض یاب ہو سکتے ہیں اور یہ برکتیں انفرادی زندگی سے نکل کر اجتماعی زندگی میں کسطرح اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انبیاء انسانیت کی بھلائی کے لیے تشریف لائے ان کی لائی ہوئی شریعت پر ‏عمل کر کے ہی ہم ایک خوشگوار معاشرہ قائم کر سکتے ہیں-
اپنی تربیت اور اصلاح کے ساتھ ساتھ ہمیں معاشرے کی تعمیر کے لیے کردار ادا کرنا چائیے اس میں انسانیت کی کامیابی کا راز ہے۔
پرواگرام کا اختتام اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کے نائب صدر جناب عبدالرحمن
عباسی صاحب کی دعا کے ساتھ ہوا۔
یوتھ ونگ کی ٹیم نے ہال کو زبردست انداز میں سجایا.
پروگرام کے اختتام پر حاضرین کے لیے عشائیہ کا انتظام بھی کیا گیا تھا

اس پروقار تقریب کی صوتی و بصری کوریج اسلامک ايجوکيشن کميٹی کويت کی میڈیا ٹیم نے کی۔