Showbiz

Dubai, United Arab Emirates, November 6, 2018-- Thugs of Hindostan, dubbed to be India’s biggest film ever, will hit the cinemas in the UAE and across the Middle East on November 8, 2018. Yash Raj Films is taking this extravagant action-adventure to a whole new level of cinematic experience. The Amitabh Bachchan- Aamir Khan starrer will be released in 4DX, the latest movie theatre immersive experience that has taken the world by storm.

Watching a film in 4DX is like being a part of the story in more ways than one. One can touch, feel and sense many moments that happens onscreen. From explosions of fog, smoke or a gentle breeze, this viewing experience makes a viewer feel all of it, while sitting on specially designed seats with specially positioned sound systems. One can also smell different scents and feel a turbulent storm raging onscreen. While watching Thugs of Hindostan, details of a raging sea, an action-packed battle and elements like sword fights and changes in weather will be felt vividly on 4DX. One can also feel bubbles and droplets of rain. This technology is the ultimate in state-of-the-art technology delivering a fully immersive cinematic experience. Inside every dedicated 4DX auditorium, motion chairs and environmental effects such as wind, bubbles, and scent work in perfect synchronicity with the action on screen. By taking the film to a 4DX experience, Yash Raj Films has taken a quantum leap for Hindi cinema to a whole new way of enjoying the magic of movies.

The action packed mythical mega flick set on the high seas, will release in 4DX at VOX Cinemas in the UAE, Oman, Qatar, Egypt and Lebanon, at Cinescape in Kuwait and Mars Cinemas in Turkey.

Yash Raj Films Thugs of Hindostan is the biggest visual spectacle hitting the big screen this Diwali. It boasts of a larger than life, never seen before action extravaganza and an incredible casting coup that brings together two of the biggest legends of Indian cinema, Amitabh Bachchan and Aamir Khan on screen for the first time. The film also stars Katrina Kaif and Fatima Sana Shaikh.

The mega-starrer has been directed by Vijay Krishna Acharya and produced by Aditya Chopra.

Thugs of Hindostan will release in Hindi,Tamil and Telugu across 2D Imax and 4DX in Cinemas .

 

*Source: AETOSWire

بولی وڈ میں ان دنوں اگرچہ ’می ٹو‘ مہم جاری ہے، جس کے ذریعے اداکارائیں اور خواتین اپنے ساتھ ہونے والے نازیبا واقعات کو سامنے لا رہی ہیں۔

تاہم اسی مہم کی بھرپور حمایت کرنے والی 30 سالہ اداکارہ سوارا بھاسکر نے منفرد انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کیریئر کے آغاز میں ایک فلم ہدایت کار نے محض اس لیے فلم میں کاسٹ کرنے سے منع کردیا، کیوں کہ وہ حد سے زیادہ ذہین نظر آ رہی تھیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اداکارہ نے بتایا ہے کہ انہیں ان کے جسمانی خدوخال، لباس، رنگت، سادگی، وزن، بول چال اور کشش کے برعکس ان کی ذہانت کی وجہ سے کام دینے سے انکار کردیا گیا۔

اس سے قبل متعدد اداکارائیں یہ انکشاف کر چکی ہیں کہ انہیں زیادہ وزن، سانولی رنگت یا پرکشش نہ ہونے کی وجہ سے فلموں میں ابتدائی طور پر کام دینے سے انکار کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سوارا بھاسکر کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی

تاہم سوارا بھاسکر نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں دیگر وجوہات نہیں بلکہ اس بناء پر فلم میں کام دینے سے انکار کردیا کہ وہ ہدایت کار کو حد سے زیادہ ذہین نظر آ رہی تھیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق ممبئی میں فلم فیسٹیول کے دوران بھارتی خبر رساں ادارے ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ (پی ٹی آئی) سے بات کرتے ہوئے سوارا بھاسکر نے انکشاف کیا کہ انہیں پہلی بار ایک ہدایت کار نے حد سے زیادہ ذہین ہونے کی وجہ سے فلم میں کاسٹ کرنے سے انکار کردیا۔

اداکارہ نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اب تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ آخر انہیں ان کی ذہانت کی وجہ سے کیوں فلم میں کاسٹ نہیں کیا گیا۔

اگرچہ سوارا بھاسکر نے یہ بتایا کہ انہیں حد سے زیادہ ہوشیار ہونے کی وجہ سے کام نہیں ملا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس ہدایت کار نے کس فلم میں کاسٹ کرنے سے انکار کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو’ناکام ریاست‘ کہنے والی سورا بھاسکر کا یوٹرن

سوارا بھاسکر نے گفتگو میں مزید کہا کہ آج کل بھارت میں ویب اسٹریمنگ سیریز کے لیے فلمیں بنانے کا رجحان مقبول ہو رہا ہے، جو فنکاروں کے لیے بہتر ہے۔

سوارا بھاسکر نے نے ویب اسٹریمنگ سیریز کو اداکاروں کے لیے بہتر سینما سے زیادہ بہتر پلیٹ فارم بھی قرار دیا۔

خیال رہے کہ سوارا بھاسکر نے ‘ووٹ’ کی ویب سیریز ’اٹز ناٹ سمپل’ میں بھی کام کیا، جس کے 2 سیزن پیش کیے جاچکے ہیں۔

سوارا بھاسکر نے اداکاری کی شروعات 2009 میں فلم ’مدھو لال کیپ واکنگ’ سے کی، اب تک 20 کے قریب فلموں میں کام کیا ہے، رواں برس ان کی فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ ریلیز ہوئی تھی۔

ان کی مشہور فلموں میں ’پریم رتن دھن پایو، تنو ویڈز منو، سب کی بجے گی بینڈ، چلر پارٹی، رنجانا اور مچھلی جال کی رانی ہے‘ شامل ہیں۔

انہوں نے متعدد ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا، انہیں شاندار اداکاری پر متعدد ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔

 

 

اسرائیلی عرب اور مسلمان نیوز اینکر لوسی حریش اور یہودی اداکار تساہی حالیوی کی شادی پر اسرائیلی سیاستدانوں کی جانب سے شدید مخالفت سامنے آئی ہے جبکہ اسرائیلی وزیر داخلہ نے اس شادی کو یہودی نسل کی حفاظت کے لیے خطرہ تک قرار دے دیا۔

ہاریتز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عرب نیوز اینکر لوسی حریش عبرانی زبان پر عبور رکھتی ہیں اور انہوں نے بدھ (10 اکتوبر) کو یہودی اداکار تساہی حالیوی سے شادی کی تھی۔

لوسی حریش اسرائیلی ٹیلی وژن پر عبرانی زبان میں بطور اینکر ملازمت کرنے والی پہلی عرب خاتون ہیں جبکہ تساہی حالیوی نے نیٹ فلیکس کے ڈرامے ’فاؤدا‘ میں ایک خفیہ ایجنٹ کے کردار سے شہرت حاصل کی تھی۔

ایک مسلم اینکر اور یہودی اداکار کی شادی کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد سے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچ گئی اور ان کی شادی پر متضاد رویوں کا رد عمل سامنے آیا۔

انہوں نے حدیرہ کے جنوب مغربی علاقے ایلکی رنچ میں نجی تقریب میں شادی کی کیونکہ اسرائیل میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد قانونی طور پر شادی نہیں کرسکتے۔

یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق دونوں کے درمیان گزشتہ 4 سال سے تعلقات قائم تھے۔

اسرائیل کے وزیر داخلہ ارییا درعی نے آرمی ریڈیو پر کہا کہ ’یہ ان دونوں کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن ایک یہودی کے طور پر مجھ سے یہ سوال پوچھا جائے تو میں یہ کہوں گا کہ میں ایسی چیزوں کے خلاف ہوں کیونکہ ہمیں یہودی نسل کی حفاظت کرنی ہے جسے ہم نے ہزاروں سالوں سے محفوظ رکھا ہے، لوسی حریش اپنا مذیب تبدیل کرسکتی ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کے بچے بڑے ہوں گے، اسکول جائیں گے اور بعد میں شادی کے وقت انہیں مشکلات کا سامنا ہوگا‘۔

اسرائیلی قانون ساز اورین حازان نے اسرائیلی عرب نیوز اینکر کو یہودی اداکار سے شادی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ’میں لوسی حریش کو ہمارے ملک کو نقصان پہنچانے اور یہودی نسلوں کو یہودیت سے دور رکھنے کے مقصد سے ایک یہودی کو ورغلانے کا الزام عائد نہیں کرتا بلکہ اس کے برعکس میں ان کا مذہب تبدیل کرنے پر خیرمقدم کروں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں تساہی حالیوی کو اس چیز کا ذمہ دار قرار دیتا ہوں اور کہا کہ پاگل مت بنو، لوسی حریش یہ ذاتی نہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ تساہی میرے بھائی ہیں اور باقی یہودی افراد میرے ہیں، اس لیے اس سب کو ختم کریں‘۔

زایونسٹ یونین کے رکن شیلی نے نو بیاہتا جوڑے کو مبارک باد دی اور حازان کا موازنہ ہیری پوٹر کے ڈیتھ ایٹر سے کیا جسے جادوگروں میں صرف خالص خون کی تلاش ہوتی ہے۔

یوئل حسن زایونسٹ یونین قانون ساز کا کہنا تھا کہ حازان ایک نسل پرست، تاریک اور شرمناک چہرے کو ظاہر کرتے ہیں جسے مزید نہیں دیکھا جاسکتا‘۔

یروشلم پوسٹ کی ایک اور رپورٹ کے مطابق موسیقار ایدان رائچل، جن کی شادی غیر عبرانی آسٹریا قومیت سے تعلق رکھنے والی دمارس دیو بیل سے ہوئی تھی، نے اس موضوع پر جزبات کا اظہار کرنے کے لیے فیس بک کا سہارا لیا اور حازان کے ٹوئیٹ کی تصویر بھی پوسٹ کی۔

ایدان رائچل نے لکھا کہ ’ایک مرتبہ معروف شخصیت نے ٹی وی پر کہا کہ میں نے اپنی زندگی دمارس کے ساتھ گزارنے کا غلط فیصلہ کیا کیونکہ میری بیٹیاں اس وقت تک یہودی نہیں جب تک وہ یہودیت کو نہیں اپناتیں‘۔

دمارس نے مجھ سے بہت اچھی بات کہی تھی ’کہ ایدان رائچل آپ جانتے ہیں کہ اگر میں مشہور ہوتی اور میں آسٹریا میں مقیم ہوتی اور ٹی وی شو میں بیٹھ کر کوئی شخص ایسی بات کرتا کہ ایک یہودی سے شادی کرنا بیکار تھا تو وہ پریزینٹر اور ایڈیٹر سمیت اس سے وابستہ ہر شخص کو ملازمت سے ہٹا دیتے، لیکن یہاں اسرائیل میں لوگ ایسی باتیں کہنے کی اجازت دے دیتے ہیں‘۔

According to Zoheb Hassan, Nazia Hassan's ex-husband Mirza Ishtiaq Baig is planning to make a film on the Pakistani pop star. However, the Hassan family is opposed to the idea.

He wrote that the family will sue anyone who is part of the project.

In a Facebook post, Hassan said, "The Hassan family has come to know that Nazia's ex-husband is trying to make a film on her life so he can feature himself and further profit from her name and fame."

 

"Anyone entertaining this individual shall be duly and legally sued by our family as he has no legal right or basis to do so. Furthermore we hold full publishing rights of all our music worldwide and any attempted infringement of our catalog shall be subject to legal cost and consequence."

Nazia Hassan's married life was a tumultuous one. She got married to Baig in 1995, had a son Arez Hassan and divorced him in 2000, reportedly days before she died due to lung cancer.

ASHLAND, Ky.--(BUSINESS WIRE)-- Braidy Industries, Inc. and its subsidiary Veloxint announced today the appointment of five new key executives. The news comes as momentum continues for Veloxint and for Braidy Industries’ $1.6 billion Braidy Atlas rolling mill project, following the official groundbreaking events in early June.

Braidy Industries has appointed Julio Ramirez to the position of Chief Financial Officer. Ramirez brings experience as a former founder, CEO and CFO, driving corporate, financial and digital strategy and performance for a number of diverse Fortune 500 companies, including The Hackett Group, Molson Coors Brewing Company, Summit Materials and The Freeman Company. Ramirez also served as an audit partner at KPMG for 15 years, and was a U.S. Army Captain. Ramirez will report directly to Braidy Industries CEO Craig Bouchard.

At Veloxint, Major General Kevin McNeely (Ret.) joins as Chief Operations Officer. McNeely brings over two decades of experience in government, personnel management and policy and process development, as well as thirty-eight years of military service to the position. He previously served as Director of Manpower and Personnel at the National Guard Bureau, Assistant to the Chairman for National Guard Matters, Deputy Director of Strategy, Policy and Programming for the U.S. European Command and Director of Strategy, Policy and International Affairs at the National Guard Bureau. McNeely will report directly to Veloxint CEO Dr. Alan Lund.

Dr. Phoebe Kwan is assuming the role of Chief Commercial Officer at Veloxint, bringing expertise in strategic positioning and development of high-performance materials across a range of industries, including technology, medicine and energy. Dr. Kwan has held executive leadership roles in product management, marketing, business development and external corporate venturing at both early-stage startups and Fortune 500 companies, and holds a PhD in Chemistry from the Massachusetts Institute of Technology. Kwan will report directly to Veloxint CEO Dr. Alan Lund.

Veloxint has also appointed Dr. Judson “Jud” Marte as Vice President of Product Development. Formerly Principal Scientist and Product Manager for two decades at GE Global Research, Marte will apply his expertise as a materials scientist specializing in processes producing low-cost, high-efficiency materials to oversee transformative component design using Veloxint’s thermally-stable nanostructured alloys. Marte received his M.S. and PhD in Materials Science and Engineering at Virginia Tech, where he conducted research for five years.

Finally, John Gaspervich joins Veloxint as Executive Vice President of Manufacturing. Gaspervich brings thirty years’ experience in the metal injection molding industry, and is a leading expert in MIM parts production and market applications. In his four-decade career working with cutting-edge precision manufacturing technologies, Gaspervich has held executive leadership roles in manufacturing, engineering, quality and business development for leading North American and international companies in the MIM industry.

Of the developments, Craig Bouchard, Chief Executive Officer of Braidy Industries said, “A company is only as good as its people and its community. We are only as great as our culture. To lead the rebuild of Appalachia is a challenge and a true responsibility. We will succeed because great people want to join us and make a difference.”

About Braidy Industries:

Braidy Industries is a future-leaning advanced manufacturer of metals for the global transportation and defense industries. The company’s first project, the Phase I construction of a greenfield aluminum rolling mill at EastPark Industrial Center in Ashland, Kentucky, will position the company as the low-cost provider of 300,000 annual tons of production-ready series 5000, 6000 and 7000 aluminum sheet and plate for the automotive and aerospace industries.

* Source: AETOSWire

Teaming up director Ahsan Rahim with actors Sajal Ali and Imran Abbas, this ad is the brand's attempt to redefine what it means to be a real hero, particularly in a desi household.

Have a look at the TVC here:

 

 

Here are few lessons we're taking from the campaign:

1. Who belongs in the kitchen is not a question that gender has to answer!

The ad portrays both celebs as a contemporary couple in a progressive domestic setting that aims to unseat age-old gender roles and stereotypes.

The story suggests that Lemon Max's power of 1000 lemons is made for fingers that are now gender-equivalent, and consequently heroic.

2. Not all mother-in-laws steer the household's decisions!

The ad subtly hints on how the decision maker of the household (particularly the kitchen) is not always a domineering mom-in-law.

We're gradually but strongly shifting towards creating an environment where household chores are everybody's job, particularly the men of the house.

Can we please have more ads reflecting this now?

3. Male celebs can also endorse products considered to have women as their primary target!

We think the TVC ably tells the ad world that experiments are not always a bad idea.

Not all household product campaigns are meant to have women celebs swiveling around in designer joras conforming to age-old gender roles.

4. Not all ads need melodrama to create strong recall!

All characters in the TVC do their jobs without bursting with cosmetic (and oft irrelevant) emotions and we certainly like that!

From the point where the parents-in-law are introduced to the parts where the husband does the dishes while the wife watches in glee, everything seems to have been pictured just right.

Shall we say this makes the reactions all the more relatable?

بولی وڈ فلم ’دنگل‘ اور ’سیکریٹ سپر اسٹار‘ میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی 17 سالہ زائرہ وسیم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ بھی انتہائی کم عمری میں ’ڈپریشن‘ اور ’انزائٹی‘ جیسی ذہنی بیماریوں میں مبتلا رہ چکی ہیں۔

 

خیال رہے کہ انزائٹی کو غیر یقینی کیفیت یا کچھ ناخوشگوار واقع ہونے کا ڈر کہا جا سکتا ہے۔

اردو میں انزائٹی کے لیے بے چینی، پریشانی یا گھبراہٹ جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔

اسی طرح ’ڈپریشن‘ کے لیے اداسی، مایوسی اور دباؤ جیسی اصطلاحات استعمال کی جاسکتی ہیں۔

’انزائٹی اور ڈپریشن‘ کو ذہنی بیماریاں قرار دیا جاتا ہے، ماہرین کے مطابق اگرچہ اسے مکمل طور پر بیماری نہیں کہا جاسکتا، تاہم یہ بھی مرض کی ایک قسم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انزائٹی کی وجوہات، علامات اور علاج

اس میں انسان ذہنی طور پر مفلوج ہوجاتا ہے، اسے ہر وقت مرنے کے خیالات آنے سمیت بھوک کا نہ لگنا، بھوک کا بڑھ جانا، بار بار غصہ آنا، ڈرنا، سانس لینے میں دشواری سمیت اسی طرح کے کئی مسائل ہوتے ہیں۔

دنگل میں زائرہ وسیم نے کم عمر گیتا پھوگٹ کا کردار نبھایا تھا—اسکرین شاٹ
دنگل میں زائرہ وسیم نے کم عمر گیتا پھوگٹ کا کردار نبھایا تھا—اسکرین شاٹ

 

ان بیماریوں سے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اس مرض کے شکار افراد زیادہ تر 25 سال سے زائد عمر کے ہوتے ہیں، تاہم یہ دیکھا گیا ہے کہ اس کے شکار افراد کا عمر اور جنس سمیت ان کی غربت و دولت سے بھی کوئی تعلق نہیں۔

17 سالہ زائرہ وسیم سے قبل بھی کئی بولی وڈ و ہولی وڈ کی معروف شخصیات، اداکار اور کروڑ پتی افراد اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ ’انزائٹی اور ڈپریشن‘ کا شکار رہ چکے ہیں۔

بولی وڈ میں زائرہ وسیم سے قبل معروف اداکارہ دپیکا پڈوکون بھی اس بات کا اعتراف کر چکی ہیں کہ وہ بھی اس مرض میں مبتلا رہ چکی ہیں۔

دپیکا پڈوکون نے تو اس بیماری میں مبتلا افراد کے لیے ’ لائیو، لاف لو فاؤنڈیشن‘ نامی فلاحی ادارہ بھی کھول لیا۔

ان کے علاوہ الینا ڈی کروز بھی اس بات کا اعتراف کر چکی ہیں کہ وہ بھی طویل عرصے تک ’ڈپریشن‘ کا شکار رہ چکی ہیں۔

زائرہ وسیم نے اپنی ٹوئٹر اور انسٹاگرام پوسٹ میں تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ 12 سال کی انتہائی کم عمری میں پہلی بار ’انزائٹی‘ کا شکار ہوئیں۔

8.png

login with social account

Images of Kids

Events Gallery

Currency Rate

/images/banners/muzainirate.jpg

 

As of Tue, 11 Dec 2018 02:05:02 GMT

1000 PKR = 2.242 KWD
1 KWD = 446.090 PKR

Al Muzaini Exchange Company

Go to top