Image may contain: 6 people, people smiling, indoor

پنجاب کے علاقوں ملتان،مظفر گڑھ اور رحیم یارخان جبکہ سندھ کے علاقوں حیدرآباد، سندھڑی اور تھٹہ میں آموں کی بہترین اقسام پائی جاتی ہیں،جن میں چونسا ، لنگڑا ،سندھڑی ،بادامی اور انور راٹھور خاص طور قابل ذکر ہیں مگر چونسا کا کوئی جواب نہیں، منفرد ذائقے اور خوشبو کے باعث پاکستانی ام کو اپنی خوراک کا لازمی جزو بنائیں۔پاکستان سے تشریف لانے والے چوہدری وسیم اختر وائس چیئرمین اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حافظ محمد شبیر کے شکر گذار ہیں جنہوں نے انہیں کویت آنے اور پاکستانی مینگو فیسٹول میں شرکت اور پاکستانی کمیونٹی سے بات چیت کا موقعہ دیا ،انہیں کویتی بھائیوں سے بات چیت کر کے بڑی خوشی محسوس ہوئی ،ہماری مذہبی اور ثقافتی روایات ایک جیسی ہیں ،مینگو فیسٹول میں شرکت کر کے بڑی خوشی محسوس ہوئی ،یہ قابلِ فخر بات ہے کہ پاکستانی آم کویت اور دیگر خلیجی ممالک میں فروغ پا رہا ہے ،تقریب کے میزبان حافظ محمد شبیر ڈائریکٹر جنرل پاکستان بزنس سنٹر کویت حافظ محمد شبیر نے خطاب کرتے ہوئے تقریب میں شرکت کرنے والی صباح فیملی کی ممتاز شخصیات،پاکستان سے تشریف لانے والی حکومتی شخصیات واجد حسین بخاری ،ملک ندیم عباس بارا ایم پی اے،چوہدری وسیم اختر کو خوش امدید کہا کہ وہ ان کی دعوت پر کویت تشریف لائے،انہوں نےکہا کہ پاکستانی آم تمام پھلوں کا بادشاہ ہے،پاکستان میں آم کی 130 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں چونسا ذائقہ اور ث کے لحاظ سے سرفہرست پے،انہوں نے تمام شرکاء کو دعوت دی کہ وہ یہاں اپنی نشستوں پر بیٹھ کر پاکستانی آم کے ذائقوں سے لطف اندوز ہوں۔کویت میں پہلے مینگو فیسٹول کی جو 2015 میں ایونیو میں منعقد ہوا تھا،تصویری جھلکیاں پیش کی گئیں۔کویت میں حکمران صباح فیملی کی ممتاز رکن مادام شیخہ سو ہیلہ الصباح نے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی ام کی بہت تعریف کی اور اسے دنیا کا سب سےبہتر آم قرار دیا،انہیں پاکستانی ام بہت پسند ہیں، انہوں نےتقریب میں شرکت کی دعوت دینے پر حافظ محمد شبیر اور پاکستان بزنس سنٹر کا شکریہ ادا کیا۔ پاکستان کے سابق وفاقی وزیر سید واجد بخاری (والد زلفی بخاری) کو دعوت خطاب دی گئی، انہوں نے مینگو فیسٹول میں شرکت کی دعوت دینے ہر حافظ محمد شبیر کا شکریہ ادا کیا ،آپ کویت میں پاکستانی آم کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں ،مجھے آپ پر فخر ہے،یہ کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں،پورے پاکستان کا مسئلہ ہے،انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی پاکستان میں بزنس کرنا چاہے وہ اسے خوش امدید کہیں گے،ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے حقوق کے تحفظ کیلئے کام کر رہے ہیں۔ اس دوران شرکاء کو ان کی نشستوں پر پاکستانی ام پیش کئے گئے جن کے ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہر کسی نے اسے دنیا کا بہترین اور خوش ذائقہ پھل قرار دیا۔آخر میں شرکاء کو پرتکلف عشائیہ کی بھی دعوت دی گئی۔

Image may contain: 4 people, indoor